الجمعة، 20 شعبان 1440| 2019/04/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اسلام میں سزاؤں سے متعلق احکامات

(Penal Code in Islam)

صادَق امین محمد

 

یہ الله سبحانه وتعالى کا فضل ہی ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایااورمسلم امت نے خلافت کے دور میں دین اسلام کو پوری انسانیت تک لے جانے کا فریضہ انجام دیا۔ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظام اور ضابطہ حیات ہے جس سے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی ملتی ہے چاہے وہ اخلاقیات اور عبادات  ہوں یا سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی نظام ہو، خارجہ امور ہوں یا تعلیم، اسلام میں سب ہی پہلوؤں کے متعلق احکامات اور ہدایات موجود ہیں۔الله سبحان هوتعالىٰ فرماتاہے:۔

 

«وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا»ۚ

"اےمحمدؐ! ہم نےتمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جوحق لےکرآئی ہےاورالکتاب میں سےجوکچھ اسکےآگےموجودہےاُسکی تصدیق کرنےوالی اوراس پر حاوی ہے لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کر دی ہے" (سورةالمائدة 48(۔

 

پس شریعتِ محمدی جو قرآن و سنت کی شکل میں ہمارے پاس موجود و محفوظ ہے ،میں  عدلیہ، جرائم ، گواہیوں، سزاؤں کے متعلق تفصیلی احکامات موجود  ہیں جنہیں ریاست نافذکرتی ہے۔ ریاستِ خلافت 1300 سال تک ان قوانین کے نفاذ کے ذریعے اپنے شہریوں کو عدل و انصاف فراہم کرتی رہی ۔ اس خطہ برصغیر میں بھی یہی شرعی قوانین نافذ تھے یہاں تک کہ انگریزوں نے آ کر انہیں منسوخ کردیا ، اور لوگوں کے درمیان تنازعات کے فیصلے کفریہ قوانین کے ذریعے ہونے لگے۔ برطانوی استعمار سے نجات حاصل کرلینے کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ عقوبات سے متعلق اسلامی قوانین کو نافذ کیا جاتا، مگر پاکستان کی سیاسی اشرافیہ جو ذہنی طور پر برطانیہ کی غلام تھی، نے انگریزی قانون کو ہی کچھ ردوبدل کے ساتھ جاری رکھا اور اس بات کو نظر انداز کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے:

 

((و من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفاسقون))

"اور جو کوئی بھی اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے فیصلے نہ کرے"۔

 

آج پاکستان میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح کی نمایاں وجہ اسلام کے عدالتی اور سزاؤں کے نظام کا عدم نفاذ ہے۔

پاکستان کے مسلمانوں میں اسلام کے عدم نفاذ کی احساس کو کم کرنے کے لیے حدود سے متعلق احکامات کو جزوی طور پر اور غیر احسن انداز میں نافذ کیا گیا جبکہ عدالتی ڈھانچہ، گواہیوں کا نظام اور جرائم کے تعین سے متعلق احکامات کفر یہ تصورات پر ہی استوار رہے، چنانچہ "اسلامائزیشن" کا یہ تجربہ پاکستان کے مسلمانوں کی زندگیوں پر کوئی اثرات مرتب نہ کر سکا۔

 

آج کفریہ قوانین تلے دہائیاں گزارنے کی وجہ سے اسلام کی سزاؤں اور عدالتی نظام کا فہم مبہم ہو چکا ہے اس پر مستزاد یہ کہ استعما ر کی ثقافتی یلغار نے بعض مسلمانوں کے اذہان میں اسلامی قوانین کے موزوں  ہونے کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اس مضمون  کا مقصد اسلام کے نظامِ عقوبات کی ایک جھلک پیش کرنا ہے ۔ اللہ کرے مسلمان  جلد ریاستِ خلافت کے دوبارہ قیام کے ذریعے محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو جامع انداز میں نافذ کریں اور مسلم معاشرہ دوبارا ایسا بن جائے کہ جہاں جرائم کی شرح اس قدر کم ہو کہ مسلمانوں کے کان جرم کی خبروں سے غیر مانوس ہو جائیں۔

 

شرعی سزاؤں کی اقسام

شرعی عقوبات یعنی سزاؤں کی چار اقسام ہیں۔

1۔ حدود ((punishment for exceeding limits

2۔ جنايات ((punishment for crimes

3۔ تعزير ((discretionary punishment / warning

4۔ مخالفات((punishment for violations

 

جرم کی تعریف

اس سے پہلے کہ شرعی سزاؤں کی مخصوص اقسام کی تفصیل میں جائیں پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شرع نے جرم کی تعریف کیا رکھی ہے۔ شریعت نے انسانوں کے عمل سے متعلق احکامات کو پانچ اقسام میں رکھا ہے، فرض، مندوب، مباح، مکروہ اور حرام۔ چناچہ فرض وہ عمل ہے جس کو کرنا لازم اور ترک کرنا گناہ ہے، مندوب وہ عمل ہے جس کو کرنے کا ثواب ہے مگر چھوڑنے پر کوئی گناہ نہیں ہے، مباح وہ عمل ہے جس کا نہ ثواب اور نہ کوئی گناہ ہے، مکروہ وہ عمل ہے جس کا گناہ تو نہیں، البتہ ترک کرنے کا اجر ہے، اور حرام ہر وہ عمل ہے کہ جس سے بچنا واجب ہے اوراسے کرنا گناہ کا باعث ہے۔

 
اسلام میں سزائیں فرض کو ترک کرنے، کوئی حرام عمل کرنے یا ریاست کے نظم (administration) کی خلاف ورزی کی صورت میں عائد ہوتی ہیں۔ لہٰذا جرم دراصل وہ برا عمل ہے جس کو شرع نے نا قابلِ قبول قرار دیا یعنی یا تو اس عمل کو حرام ٹھہرایا یا اس کی کوئی سزا رکھی۔ لیکن وہ اعمال جن کو شرع نے برا نہیں ٹھہرایا تو وہ جرم کی تعریف میں شامل نہیں۔ اسی طرح مکروہ اور مباح اعمال کی عمومی طور پر کوئی سزا نہیں۔ لیکن شرع نے لوگوں کے امور سے متعلق کچھ مباح معاملات میں خلیفہ کو اختیار دیا ہے کہ جن کی خلاف ورزی پر خلیفہ سزا مقرر کر سکتا ہے جو کہ مخالفاتکے ضمرے میںآتے ہیں،  مثلاً: ٹریفک کےقوانین، عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قوانین جومباحات میں شامل ہیں۔اسی طرح کسی مندوب عمل  کو ترک کرنے یا مکروہ عمل کرنے پرسزا نہیں کیونکہ الله سبحانه وتعالى نےصرف قطعی طور پر لازم احکامات کی نافرمانی پرسزارکھی ہے نہ کہ مباح یا مکروہ عمل کرنے پر۔

لہٰذا وہ تمام اعمال جو قطعی دلیل سے جرم کہلاتے ہیں اور ان اعمال کی خلاف ورزی جو اجتہاد کے نتیجے میں خلیفہ اسلامی ریاست پر نفاذ کے لئے تبنی (adopt) کرتا ہے جرم کی تعریف میں شامل ہیں۔

 

شرعی سزائیں ہی کیوں

جرم کرنا انسان کی ذات میں فطری طور پر موجود نہیں، نہ ہی قانون کی خلاف ورزی اس کی عادت ہے اور نہ ہی یہ بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان جرم کرتا ہے۔

الله تعالى نےانسانوں کےاندرجبلتیں اور جسمانی حاجات رکھی ہیں جن کو سیراب کرنے کے لئے انسان کوشش کرتا ہے۔ اگر ان کو بغیر کسی نظام کے چھوڑ دیا جائے تو یہ صحیح طریقے سے پوری نہیں ہوں گی اور انسان کی بدبختی پر منتج ہوں گی ۔لہذٰا الله سبحانه وتعالىٰ نےشریعت میں انسانوں کےاعمال سےمتعلق تفصیلی ہدایات دی ہیں جنہیں ہم احکامِ شریعت کہتے ہیں۔ شرع نے ہی حلال و حرام کا بتایا ہے اور اوامر و نواہی طے کر دیے ہیں اور انسان سے تقاضا کیا ہے کہ وہ اوامر کو سرانجام سے اور نواہی سے اجتناب کرے۔  پس جو اوامر کو پورا نہیں کرتا اور نواہی سے اجتناب نہیں کرتا  تو شریعت کے نقطہ نظر سے اس نے قبیح عمل کیا جس پر سزا ملے گی۔

سزاؤں کی غیرموجودگی میں معاشرہ برائیوں سےدورنہیں رہ سکتاجیساکہ الله سبحانه وتعالى کافرمان ہے:۔

 

۔«وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌ»

"تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے"۔

 

اللہ نے قصاص (یعنی قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کرنے) کو معاشرے کے لئے زندگی قرار دیا کیونکہ اگر قاتل کو یہ پتہ ہو تا کہ اگر اس نے کسی کو قتل کیا تو اسے بدلے میں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا تو امکان تھا کہ وہ یہ قبیح فعل سرانجام دینے سے باز رہتا اور یوں جانیں محفوظ رہتیں۔

جب دنیا میں مسلمان کو کسی جرم کی وجہ شرعی سزا دی جاتی ہے تو وہ اس جرم کی توبہ کرنےسے آخرت میں الله سبحانه وتعالى کےعذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:۔

 

ومن أصاب من ذلك شيئاً فعوقب به فهو كفارة له، ومن أصاب من ذلك شيئاً فستره الله عليه إن شاء غفر له، وإن شاء عذبه

"جوکوئی ان میں سےکوئی فعل کربیٹھےگا پھراس کودنیا میں اسکی سزاملے تو وہی اس کے کیے کا کفارہ ہے اور دنیا میں جس کے ایسے فعل کو اﷲ تعالیٰ چھپالے تو (آخرت میں) اﷲ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کردے چاہے عذاب دے" (صحیح مسلم 4461)

 

اور الله سبحان هوتعالىٰ نے ارشاد فرمایا:۔

 

قُلْ يَاعِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

"((اے نبیؐ) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو،جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے" (سورةالزمر 53)۔

 

یہی وجہ ہے ہم اسلامی تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ مدینہ کی اسلامی ریاست میں زنا کے مرتکب لوگ خود ہی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر توبہ کرلیتے اور جیسا کہ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ان پر حد نافذ کرتے۔ چنانچہ آخرت کے دردناک عذاب کے خوف سے وہ توبہ کرکے خود اعتراف کرتے تاکہ دنیا کی سزا کے بدلے آخرت کے عذاب سے بچ جائیں۔

 

یوں شرعی سزاؤں کے دو نتائج ہیں: اول تو شرعی سزائیں "(حرام سے) روکنے" deterrence)) کا باعث ہیں جس سے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے اور انہیں شر سے دور رکھا جاتا ہے۔ شرعی سزاؤں کا عبرت ناک ہونا معاشرے کے لئے ایک حفاظتی تدبیر ہے تاکہ سخت سزاؤں کے ہوتے ہوئے کوئی جرم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ دوسرایہ کہ شرعی سزاؤں کے نفاذ سے گناہگار آخرت کے عذاب سے بچتا ہے۔

 

شرعی سزاؤں کو نافذ کرنے کا اختیار کسے حاصل ہے:

شرعی سزاؤں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری امام یا خلیفہ کی ہے جو ریاست کے ذریعےانہیں نافذ کرتا ہے،کسی بھی فرد یا گروہ یا تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ لوگوں پر سزاؤں کا نفاذ کرے۔ خلیفہ کو یہ اختیار بیعت کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ۔ امت خلیفہ کو بیعت اس شرط پر دیتی ہے کہ وہ ان پر شرعی احکامات کا نفاذکرے گا۔ جبکہ کسی فرد یاجماعت یا تنظیم  کو لوگوں کی طرف سے بطور حکمران بیعت نہیں دی گئی اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے اولی امر کہلا سکتی  ہے ۔خلیفہ ہی مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کرتا ہے ، وہی احکامِ شرعیہ کو قوانین کے طور پر اختیار کرتا ہے اور انہیں نافذ کرتا ہے اور اسے ہی ان احکامات کی خلاف ورزی پر سزا دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"امام(خلیفہ) نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا"۔

 

شرعی سزاؤں کی اقسام اور ان کا مختصر بیان

شرع نے سزاؤں کو عموماً چار اقسام کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ حدود:

شرع نے حدود خصوصاً ان سزاؤں کو کہا ہے جو ایسے گناہ والے اعمال کے نتیجے میں عائد ہوتی ہیں جن کی سزا لینا الله سبحانه وتعالى کاحق ہےنہ کہ بندوں یاریاست کا۔یہی وجہ ہےکہ شرع نےحدودکی تمام سزاؤں کو واضح طورپر(explicitly) بتا دیا اور کسی شخص یا اسلامی ریاست کو یہ اختیار نہیں دیا کہ اس سزا کو الله سبحانه وتعالى کی طرف سےمعاف کردے۔مثال کےطورپرالله سبحانه وتعالى کافرمان ہے :۔

 

«الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلاَ تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ»

"بدکار عورت اور بدکار مرد سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور تمہیں الله کے معاملہ میں ان پر ذرا رحم نہ آنا چاہیئے"۔

اورفرمایا:۔

«وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓا أَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلًا مِّنَ ٱللَّهِۗ»

"اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ اُن کے کیے کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا" (سورةالمائدة 38)۔

 

لہٰذاحدود کی سزائیں الله سبحانه وتعالى کی طرف سے ہوتی ہیں جن کواسلامی ریاست نافذ کرتی ہے۔۔

اسی حوالے سے ایک مشہور روایت ہمارے سامنے ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔

 

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏لَقَطَعْتُ يَدَهَا»

"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ  نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا" (صحیح بخاری 6787)۔

 

مختلف صحیح احادیث سے واضح ہے کہ یہ کسی کے اختیار میں نہیں کہ مقررہ حدود کی خلاف ورزی کو معاف کردے کیونکہ ان کی سزا لینا الله کاحق ہے۔یہی وجہ ہےکہ الله تعالىٰ نےکسی حدکی معافی کا ذکرنہیں فرمایا ماسوائے اخلاص کےساتھ توبہ کرنےسے،کہ جس کے نتیجے میں مسلمان آخرت کے عذاب سے بچ جاتا ہے لیکن دنیاوی سزا (حد) اس پرلازم ہوتی ہے۔الله سبحانه وتعالى فرماتاہے:۔

 

«قُلْ يَاعِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ»

"(اے نبیؐ) کہہ دوکہ اے میرے بندو،جنہوں نےاپنی جانوں پرزیادتی کی ہے،اللہ کی رحمت سےمایوس نہ ہوجاؤ،یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے،وہ توغفورورحیم ہے۔"

 

چنانچہ چوری ، زنا، ہم جنس پرستی ، شراب نوشی، ارتداد،قذف ، شاہراہوں پر ڈاکہ زنی، اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت کی سزائیں حدود میں شمار ہیں جنہیں اسلامی ریاست نافذ کرتی ہے اور ان سزاؤں میں کسی معافی کی گنجائش نہیں۔

 

2۔ جنایات:

جہاں تک جنایات کا تعلق ہے تو شرع نے کچھ سزاؤں کو اس قسم میں اکھٹا کیا ہے۔ یہ سزائیں ان جرائم (حرام اعمال) کے نتیجے میں عائد ہوتی ہیں جن کا بدلا لینا انسان کا حق (right of indemnification or right of retaliation ) ہے۔ لہٰذا انسان جو اس جرم کے نتیجے میں متاثر ہو، وہ چاہے تو سزا کے ذریعے بدلہ لے لے یا مقررہ شرعی طریقے سے معاف کردے۔ کسی کو ناحق قتل کرنا یا کسی بھی طرح کا جسمانی نقصان پہنچانا ان جرائم میں شامل ہے اور ان کا بدلہ لینا واجب ہے۔ جیسا کہ الله سبحان هوتعالى فرماتا ہے:۔

 

«كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَىۖ ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰۚ»

"تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو توا س عورت ہی سے قصاص لیا جائیگا" (سورةالبقرة 178)۔

 

االبتہ مقتول کےلواحقین اگرقاتل کومعاف کرناچاہیں تودیت (خون بہا)دیکرمعاف کرسکتے ہیں جیسا کہ الله سبحانه وتعالى کا فرمان ہے:۔

 

«فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَٰنٍۗ»

"اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو، تو قاتل کو معروف طریقے کے مطابق خون بہا دینا چاہیے (سورةالبقرة 178)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

"مَنْ قَتَلَ متعمداً دُفِعَ إلى أولياء المقتول، فإن شاءوا قتلوه، وإن شاءوا أخذوا الدية

"جسے قصداًقتل کر دیا جائے تو اس کے والی وارثوں کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں، یا دیت لے لیں۔" (ترمذی)۔

 

جنایات کی مثالوں میں قصاص ، خون بہا اور جسم کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے پر دیت کی سزائیں شامل ہیں۔

 

3۔ تعزیر:

شرع نے تعزیر ان سزاؤں کو ٹھہرایا ہے جن کی قرآن وسنت میں کوئی مخصوص سزامقرر نہیں۔ جن جرائم کے کرنے سے ایک شخص حدود یا جنایات کا مرتکب ہوتا ہے وہ اسی جرم کے مطابق مخصوص سزا پاتا ہے اور اس پر تعزیر کا حکم نہیں لگتا۔ لیکن اگر جرم کی کوئی مخصوص سزا قرآن وسنت نے واضح نہ کی ہو، اس صورت میں مجرم پر تعزیر کا حکم لگے گا۔ تعزیر اس جرم کی سزا ہے جس کے لئے نہ تو مخصوص حد ہو اور نہ ہی کفارہ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کو جسمانی نقصان پہنچانے کی مخصوص سزا شرع نے بتائی ہے، اسی لئے اس جرم پر مزید کسی سزا یعنی تعزیر کا حکم نہیں لگے گا۔ مزید یہ کہ تعزیر کا حکم قاضی جرم کی نوعیت کے مطابق اجتہاد کی بنیاد پر لگاتا ہے۔ لیکن خلیفہ یا قاضی اپنی مرضی کی کوئی بھی سزا تعزیر کے طور پر عائد نہیں کرسکتا کیونکہ شرع نے کچھ سزاؤں کو خصوصاً ممنوع قرار دیا ہےجیسا کہ آگ سے جلانا وغیرہ۔ البتہ مقررہ حدود اور جنایات کی سزاؤں کا کچھ حصہ تعزیر کے طور پر مقرر کرسکتا ہے۔

 

تعزیر باقی سزاؤں (حدود اور جنایات) سے اس طرح بھی مختلف ہے کہ اس میں ریاست کی طرف سے معافی کی گنجائش ہوتی ہے جو کہ حدود اور جنایات میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ حدود اور جنایات الله سبحانه وتعالى اوربندوں کےحقوق کی براہِ راست خلاف ورزی کی وجہ سےعائدہوتی ہیں اورریاست کہ پاس یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ خالق یابندوں کے طرف سے معاف کردے لہٰذا ان جرائم کے نتیجے میں سزائیں لازم ہوتی ہیں۔البتہ تعزیرالگ معاملات  کے لئے عائدہوتی ہےتوریاست اس کی سزاکوکم کرسکتی ہے یا مجرم کو معاف بھی کرسکتی ہے، جیسے حکمران پر جھوٹا الزام عائد کرنا۔

 

دراصل تعزیر کی سزائیں جرم کی نوعیت کے مطابق قیاس کی جاتی ہیں چنانچہ اس کے لئے شارع کا اشارہ (قرینہ) ہی بتاتا ہے کہ جرم (یعنی نا پسندیدہ یا حرام عمل) کی شدت intensity)) کتنی ہے کہ جس کے مطابق سزا دی جائے۔ مزید یہ کہ ان سزاؤں کی تبنی اور نفاذ کے لئے حقیقت کی مکمل آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے اور شرعی علت "(حرام سے) روکنے" (prevention) کی بنا پر ان سزاؤں (تعزیر) کی تبنی کی جاتی ہے۔ چند  تعزیری سزائیں مثال کے طور پر درج ذیل ہیں:

 

1۔ اگر کوئی شخص زنا بالجبر (rape) کی کوشش کرتا ہے لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے وہ اس عمل کو سرانجام نہیں دے پاتا کہ اس پر حد نافذ ہو، اس صورت میں مجرم کو تعزیر کی شکل میں تین سال قید، کچھ حصہ کوڑے کی سزا اور جلاوطن کیا جائے گا۔ یہ اس وجہ سے کہ جو عمل وہ اس رکاوٹ کے نہ ہونے کی وجہ سے کرتا وہ صریحاًحرام عمل ہے اور جس جرم کی شرع میں خاص سزا بھی مقرر ہے۔ لیکن چونکہ وہ حرام عمل مکمل نہیں ہوا لہٰذا سزا (حد) بھی پوری نہیں لگے گی۔

2۔ فحش لٹریچر، آڈیو، ویڈیو یا اس طرح کی سروسز بیچنے پر چھ مہینے قیدکی سزا۔

3۔ اگر کوئی شخص نشہ (چرس، ہیروئن وغیرہ علاوہ شراب) لیتا ہے تو اس پر کوڑے، پانچ سال قید، اور جرمانے کی سزا۔

4۔ اگر کوئی شخص، باوجود اس بات کا علم ہونے کے، ایسی زمین، اشیاء وغیرہ خریدتا ہے جو چوری کی گئی ہوں تو اس کو تین مہینے سے دو سال تک کی قید کی سزا اور یہ کہ وہ متاثرہ شخص کا ازالہ compensate)) بھی کرے۔

5۔ جو شخص اسلامی ریاست کو توڑنے کے لئے یا کسی اور مقصد سے وطنیت (عصبية) ک یدعوت دیتا ہے یااس کوپھیلاتا ہے تواس کوجرمکینوعیت (intensity) کے مطابق پانچ سال سے پچاس سال تک قید کی سزا ۔

 

4۔ مخالفات:

مخالفات شرع نےان سزاؤں کوکہا ہے جو امام یاخلیفہ کی نافرمانی کی وجہ سے عائد ہوتی ہیں۔ شرع نے مباح معاملات مثلاً ٹریفک کنٹرول جیسے ریاستی انتظامات وغیرہ میں خلیفہ  کو مشاورت اور قابلیت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے اور قانون سازی کا اختیار دیا ہے۔ لہذٰا ان انتظامی قوانین کی خلاف ورزی خلیفہ کی نافرمانی ہی ہوگی۔ اسی طرح خلیفہ کے معاونین اور والی کی نافرمانی بھی خلیفہ کی اطاعت کی خلاف ورزی ہوگی۔ الله سبحانه وتعالى نےخلیفہ (سلطان) کی اطاعت کوفرض کہا ہے، فرمایا:

 

«يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّسُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْۖ»

"اے ایمان والوں، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺکی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں" (سورةالنساء 59)۔

 

یعنی اطاعت کروان کی جنہیں امت نےمنتخب کر کے صاحبِ امر بنایاہے۔

اسی طرح خلیفہ کے مقرر کیے ہوئے امیر کی اطاعت بھی فرض ہے، رسول اللهﷺنےفرمایا:۔

 

((من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني))

"جس نےمیری اطاعت کی اس نےالله کی اطاعت کی،جس نےمیری نافرمانی کی اس نے الله کی نافرمانی کی۔ جس نےامیرکی اطاعت کی اس نےمیری اطاعت کی،جس نےامیرکی نافرمانی کی اس نےمیری نافرمانی کی" (بخاری)۔

 

البتہ اطاعت صرف معروف میں جائزہے یعنی کہ اگرخلیفہ یاامام کسی گناہ کاحکم دے تو اس صورت میں کوئی اطاعت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔

 

«إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف»

"اطاعت صرف خیر کے کاموں میں ہے" (صحيح بخاری 7145)۔

 

اس سے واضح ہوا کہ امیر کی نافرمانی گناہ ہے، لیکن چونکہ شرع نے اس جرم کی سزا مقرر نہیں کیلہٰذا اسلامی ریاست کا قاضی ایسے کسی جرم کی سزا عائد کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے فقہاء نے ان سزاؤں کو الگ سے نہیں بلکہ تعزیر میں ہی شامل کیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح رائے یہی ہے کہ مخالفات اورتعزیرالگ قسم کی سزائیں ہیں: تعزیران سزاؤں کوکہا گیا جوبراہ راست الله سبحانه وتعالى کےاحکامات کی خلاف ورزی کےنتیجےمیں عائدہوتی ہیں جبکہ مخالفات وہ سزائیں ہیں جوحکمران کی نافرمانی کی وجہ سےعائد ہوتی ہیں۔

 

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خلیفہ کا کسی حکم کو نافذ کرنا خالص احکام شریعت کی تبنی ہے نہ کہ اپنی طرف سے کوئی حکم لگانا اور جہاں شرع نے خلیفہ کو اختیار دیا ہے وہاں بھی خلیفہ کسی حکم شرعی کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ جہاں تک مباح معاملات جیسے بیت المال کے تحفظ کے لیے اقدامات، شہروں کی تعمیر، اور افواج کی درجہ بندی وغیرہ کا تعلق ہے تو ان کے لئے شرع نے خلیفہ کو حکم لگانے کا اختیار دیا ہے۔  نبیکریم ﷺ نے کچھ اصحاب کوکھجوروںمیں گابھہ لگانے سے متعلق اپنی رائے پیش کی لیکن پھر فرمایا،

 

«أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ»

"تم اپنے دنیا کے معاملا ت کو زیادہ جاننے والے ہو" (صحیح مسلم 6128)۔

 

یعنی ان مباح معاملات میں جہاں دنیاوی ہنر کی ضروری ہوتی ہے انسان خود اپنی عقل سے فیصلہ کرسکتا ہے۔ اسی طرح انتظامات (administration) سے متعلق خلیفہ قوانین کی تبنی کر سکتا ہے اور ان معاملات کے لئے سزائیں بھی مقرر کرسکتا ہے۔

Last modified onپیر, 11 فروری 2019 23:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک