الأربعاء، 14 ذو القعدة 1440| 2019/07/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

فلسطین کی مبارک زمین میں حزب التحریر کی جانب سے فلسطینی حکام کو کھلا خط:

ہمارے بچوں سے دور رہو۔!

 

تمہاری کی فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے وزیرتعلیم کی جانب سے بار بار بیان جاری کیے گئے جن میں وہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے امریکی اور یہودی دباؤکو رد  کر رہا ہے۔ اس نے کہا:" تمام کوششیں  اور بیرونی دباؤ جو کہ فلسطینی اتھارٹی اورقیادت کی طرف آئے گا ، تعلیمی نصاب میں تبدیلی نہیں لا سکے گا، اور درست راہ سے تعلیمی راہ کی سمت بدلنے کی تمام کوشیں ناکام ہوں گی"، یہ اس بات کے  جواب میں کہا گیا جو جان کیری نے دسمبر2015 میں کہا، جب اس نے فلسطینی نصاب میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا، اس بہانہ سے کہ یہ تشدد، نفرت اور نقصان پیدا کرتا ہے اور یہودی ریاست  اوراس کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جب تم نے اپنے الفاظ سے اس دباؤ کی تردید کر دی، لیکن اس کے باوجود جلد ہی اپنی ہی بات کی خلاف ورزی کی اور ذلت اور رعایات کی کھائی میں جا گرے، اور جیسے ہی نیا تعلیمی سال شروع ہوا ہمیں پتا چلا کہ امریکی خواہش کی تعمیل  میں نصاب تبدیل ہو چکا ہے ۔ تمہارے لیے پرانے نصاب میں کیے گئے گناہ کافی نہیں تھے؛ جن کو بے نقاب کرنے کے لیے ہم نے2004 میں ایک کتاب شائع کی، اور جیسے تمہارے آقاؤں کو اس تبدیل شدہ نصا ب میں بھی کچھ ایسا مل گیا جو ہمارے دین اور اقدار کی یاد تازہ کر رہا تھا، سو تم نے ایسی تبدیلی اور تباہی کا آغاز کیا جو کہ اسلام کے دشمنوں کا ارادہ تھا کہ وہ اسلام اور اس کے تصورات کو نہ صرف مسلمانوں کی زندگی سے بلکہ ان کے دل و دماغ سے بھی نکال دیں۔

 

﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ (البقرۃ: 109)

 

نئے نصاب پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہےہر جرم اگلے آنے والے سے بھی بڑا ہوتا ہے، نصاب میں تبدیلیوں نے جس چیز پر توجہ مرکوز کی وہ یہ کہ سیکولرازم مضبوط اور اسلامی عقیدہ برطرف اور اس کے تصورات کے بارے میں ابہام پیدا کیا جائے، اور مسلمانوں کے اس بھائی چارے کو نظر انداز کیا جائے جس نے مسلمانوں کو ایک امت بنایا، اور اس بات کی انتہائی کوشش  کی گئی کہ اسلام کو باقی ادیان کے برابر ٹھہرایا جائے۔

 

  اس نصاب کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اسلام کو عیسائیت کے برابر لا کھڑا کرے، یہ توحید کے دین کو کفر کے مذہب اور تثلیث کے برابر کرنا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلاَّ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِن لَّمْ يَنتَهُواْ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

"بے شک کافر وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے۔ اور اللہ  تو نہیں مگر ایک اللہ ۔  اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے  تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا" ( المائدہ:73)

 

وہ کون مسلمان ہو گا جو تیسری جماعت کے طلباء کو ایک چرچ کی تصویر میں رنگ بھرنے کو کہے؟! جس کا ذکر تمہاری کتابوں میں مسجد سے زیادہ ہوا۔ یہ تمہارا شر تھا جب تم نے اللہ کو سجدہ کرنے اور صلیب کو سجدہ کرنے کو ایک برابر قرار دیا، جب تم نے ایک لڑکے کو عبادت کے لیے مسجد اور ایک لڑکی کو چرچ جاتے ہوئےدکھایا، ( قومی پرورش کی کتاب، جماعت سوئم، صفحہ 92)، اور تم پریشان تھے یا پھر تمہارے آقا پریشان تھے اس بیان سے کہ اسلام دینِ حق ہے، تو پھر تم نے اس کو سورۃ الکافرون کی تفسیر سے خارج کر دیا ( اسلامی تعلیمات برائے جماعت دوم)، اور تم سے سورۃ البینہ (اسلامی تعلیمات برائے جماعت چہارم) کی تفسیر میں یہ برداشت نہ ہو سکا کہ اہلِ کتاب میں سے جو ایمان نہ لائے سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔

 

جہاں تک قرآن کی زبان کا تعلق ہے،"عربی زبان" ، عربی زبان کی کتب میں کسی قرآنی آیت یا حدیث کا ذکر نہیں تھا، اور سورۃ الفاتحہ جو کہ ام الکتاب کہلاتی ہے کو پہلی جماعت کی اسلامی تعلیمات کی کتاب سے نکال دیا گیا، اور ہمیں نہیں معلوم کہ آیا یہ دوسرے سمسٹر میں شامل ہو گی یا نہیں۔ نصاب جان بوجھ کر اچھے کردار اور بھلائی کو انسانی حقوق اور شہریت سے جوڑ دیتا ہے اور ان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور رسول اللہ کے احکام سے دور کرتا ہے، اور کتب میں خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی جیسے اسلام کے ناموں کا ذکر نہیں کیا گیا، اور اس موضوع پر ایک باب "ایک کمانڈر کی ذہانت" کو ہی تبدیل کر دیا گیا، جس میں خالد بن ولید اور جنگِ موتہ کا ذکر تھا، اس کی جگہ جو سبق رکھا گیا اس کا نام "ایک چوہے کی ذہانت"تھا( عربی زبان کی کتاب، جماعت سوئم)۔

 

اس کے بعد جب تم نے بیشتر فلسطینی علاقے پر ہتھیار ڈالنے اور سمجھوتے کے بدلے فلسطینی حکومت قائم کر لی، تم اس خواہش میں لگ گئے کہ ہمارے بچوں کے دماغوں سے اس کی آزادی اور اس کو دوبارہ اسلام کی خراجی زمین بنانے جو صرف امتِ محمدی کی ملکیت ہو کہ خیال کو مٹا دیں، تمہارا  نصاب ایک ایسے جھنڈے کو عزت دیتا ہے جو ایک انگریز سائیکس اور ایک فرانسیسی پیکو کا تیار کردہ ہے، اور ایک ایسی جھوٹی ریاست کی آزادی مناتا ہے جو کہ تمہارے خیالوں کے علاوہ اور کہیں نہیں، پھر تم ہمارے بچوں کو اس مبینہ ریاست کے بارے میں پڑھاتے ہیں، اور تم اس کے وجود کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ القدس اس کا دارالحکومت ہے، جہاں تک تمہاری رسائی یہودیوں کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں، اور سربراہِ ریاست یہودیوں کی مرضی کے بغیر کہیں پھر نہیں سکتا،  اور یہودی وجود کو بچانے کے لیے ڈیٹن کے تیار کردہ حفاظتی انتظامات، اور یہاں تک کے تمہارے پاسپورٹوں پر بھی آنے اور جانے کی مہر یہودی لگاتے ہیں، کیا فضول اور مسخ شدہ افکار تم ہمارے بچوں کے دماغوں تک پہنچاتے ہو؟

 

یہ تمہارے نصاب میں موجود جرائم میں سے صرف چند ایک ہیں، جو ابھی تم نے پوری طرح ظاہر نہیں کیے، ہمارے بچوں کے خلاف تمہارے جرائماور اسلامی اقدار کے خلاف تمہاری جنگ اس کی برائی کے باوجود نصاب پر رکی نہیں، بلکہ تم نے اس کے بعد خطرناک ترین طرز عمل غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پر اپنایا، جس میں تم نے ہمارے اسکولوں کے دروازے سودی بینکوں کے لیے کھول دیے اور تمام کفاراور ان تمام تنظیموں اور اداروں کے لیے جن کی مالی امداد کفار کرتے ہیں اور جو ہمارے دین اور اقدار سے نفرت کرتے ہیں اور اپنی بد اخلاقی اور بیماریاں ہم میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، جب تک یہ مشکوک عناصر ہمارے اسکولوں تک رسائی رکھیں گے اور جمہوریت کے زہر کی تشہیر کریں گے، سیکولرازم اور سمجھوتے والے حل ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں میں اقدار اور اخلاقیات اور عزت کو برباد کر دیں گے ایسی سرگرمیوں سے جن میں دونوں صنفوں کو اکٹھا کیا جائے، اور ایسا مواد تقسیم کر کے جس میں جماع اور جنسی ہراسگی کے بارے میں ایسے الفاظ اور تصاویر اور وضاحتیں ہوں، جو ایک شوہر اپنی بیوی کے سامنے ذکر کرنے سے شرمائے، جس کا مقصد ہمارے معاشرے کو ان کریہہ گناہوں کا شکار دکھانا ہے، وہ رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان گناہوں کو ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

 

  تم نے خود کو اسکولوں میں صرف ان سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا،تم  نے یونیورسٹیوں کے دروازے مخلوط محافلِ موسیقی اور غیر اخلاقی موسیقی کے بینڈز کے لیے کھول دیا تاکہ تم ہمارے بچوں  میں برائی کو بڑھا سکو، اس میں وہ محافلِ موسیقی بھی شامل ہیں جن میں سے ایک ابھی ایک موبائیل فون کمپنی کے مالی تعاون سے ہوا جس میں کفر گایا گیا اور بدھ مت کی ترویج کی گئی، ابھی اس کا ذکر ایک طرف جو غیر اخلاقی اور مخلوط ماحول وہاں بنایا گیا، یہ سب کچھ مالی امداد کے بہانے ہو رہا ہے،اور تمہاری  زبان لوگوں سے یہ کہہ رہی ہے کہ: ہم تمہاری اولاد اور تمہاری عزت سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو بیچتے ہیں۔

 

  اے غافلو جو فلسطینی حکام میں سے ہو:

 

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

"اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی  وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں، اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں، اور وہ کان جن سے سنتے نہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، وہی غفلت میں پڑے ہیں "( سورۃ الا اعراف: 179)

 

قیامت کی نشانیوں اور اعتماد کے ختم ہو جانے میں سے یہ ہے کہ تم جیسے لوگ فلسطین کے مسئلہ کے ذمہ دار بن جائیں، اور ہمارے بچوں کی قسمت کا فیصلہ کریں، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا،

 

فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ

"اگر اعتماد کو دھوکا دیا جائے، تو پھر قیامت کا انتظار کرو، ان سے پوچھا گیا: اس کو دھوکا کیسے دیا جاتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: اگر کوئی معاملہ اس کا علم رکھنے والوں کے حوالے نہ ہو تو پھر قیامت کا انتظار کرو“ (بخاری)

 

مگر یہ جان رکھو کہ اس مبارک زمین میں نیک اور صالح مرد ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا ذکر ایک بشارت کے طور پر کیا ہے، وہ تمہاری بدی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق پر قائم رہ کر فتح یاب ہوں گے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

 

لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ

"میری امتمیں ہمیشہ ایک ایسا گروہ ہو گا جو حق پر قائم ہو گا، ان کو چھوڑ دینا ان کو نقصان نہیں پہنچائے گا، جب تک اللہ کا حکم ہو گا یہ اسی حال میں ہوں گے (لوگوں پر فتحیاب)" (صحیح مسلم)

 

یہ مسلم ممالک میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں تاکہ اللہ کا دین اس زمین پر قائم ہو اور نبوت کے منہج پر خلافتِ راشدہ کا قیام ہو، اور کام کر رہے ہیں کہ مسلمان افواج کو حرکت میں لائیں اور ان کی قیادت میں پاک زمین کو آزاد کریں اور اس کو مکروہ یہودی وجود سے پاک کریں اور اس کو تمہاری بد دیانتی اور جبر سے بچائیں، ہم سے اللہ کی جانب سے فتح کا وعدہ ہے ۔

 

﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ * يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ

"بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن(بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے،جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگا"(غفار:52-51)

 

ہمارے بچوں کی ضرورت ہے: ایسے لوگ جو ان کے وقار میں اضافہ کریں ، اور تعلیمی نصاب جو ان کے اندر اسلامی اقدار کی پرورش کرے، اور ان کے دین اور عقیدہ کے معیار کو بلند کرے اور ان کو زندگی کے تمام شعبوں، بشمول سائنس، کے علم میں بلندی کی طرف لے جائے، تاکہ وہ تمام بنی نوع انسانوں تک بھلائی کی دعوت پہنچائیں اور بنی نوع انسان کے گواہ بن جائیں۔

 

﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ

" اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو" (البقرۃ:143)

 

ہمارے بچوں کو ایک ایسی تعلیمی پالیسی اور نصاب کی ضرورت ہے جو "لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ" کے نظریہ پر قائم ہوئی ہو جو ان کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیلِ للہ سے محبت کرنا سکھائے، ان کے اندر اس خوشی کی چاہت پیدا کر دے جو اللہ کی رضا اور اس کی جنت سے ملتی ہے، اور اس کے غضب اور عذاب کا خوف، اور جس میں دنیاوی علوم شامل ہوں جو انہیں اقوام میں سب سے آگے کر دے، اور بلند ترین چوٹی پر پہنچا دے۔

 

خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا یہ کھلا خط پرانے مجرموں کے دلوں کو غصہ سے بھر دے گا کیونکہ وہ اپنی خطاؤں پر ڈٹے ہوے ہیں، اللہ کے ذکر و اطاعت سے غافل، اس کے عظیم غضب اور دردناک سزا اور عذاب سے بے خبر، انہوں نے اس بات کی اجازت دی کہ اس مبارک زمین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے، اوراس بات کو قبول کیا کہ امریکہ اور یہودیوں کے ہاتھوں ذلیل ہوں اور ان سب کے جو اسلام سے نفرت کرتے ہوں، اور جو لوگوں کے درمیان بے راہ روی پھیلاتے ہوں، لیکن ہم ان مجرموں سے کہتے ہیں: کہ اسلام، جو کہ مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے اور تمہارے جرائم کے خلاف مومنین کے دلوں میں بڑھتا ہوا غصہ وہ چیز ہے جس پر ہم بھروسہ رکھتے ہیں، اور اگر تم سوچتے ہو کہ امریکہ اور یہودی تمہیں امت کے غضب سے بچا لیں گے یا تمہیں پناہ دیں گے تو تم فریب میں ہو! امریکہ مبارک کے لیے کچھ نہ کرسکا، وہ اس کی اطاعت گزار ترین کٹھ پتلی تھا، اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ عنقریب امریکہ اور اس کے تمام جابر حکمران برباد ہو جائیں گے، انشاءاللہ۔ یہی ہے جس کا اللہ اور ا س کے نبی ﷺ نے وعدہ کیا ہے، اور وہ سچے ہیں۔ لہٰذا رک جاؤ! ہمارے بچوں سے اور مسلہ فلسطین سے دور رہو، اگر تم سمجھتے ہو؟

 

ہم اپنے خط کا اختتام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:

 

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ * مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ * وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ * وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ * وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ * فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ * يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ * وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ * سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ * لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ * هَذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ

"اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے۔ اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا ۔اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں ۔ اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے ۔ جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے ۔ اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی۔ یہ اس لیے کہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے ۔ یہ قرآن لوگوں کے نام (اللہ کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں" (ابراہیم:52-42)

ہجری تاریخ :27 من محرم 1438هـ
عیسوی تاریخ : جمعہ, 28 اکتوبر 2016م

حزب التحرير
فلسطين

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک