الأربعاء، 14 ذو القعدة 1440| 2019/07/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
یمن

ہجری تاریخ    2 من جمادى الأولى 1438هـ شمارہ نمبر: HTY-03/1438
عیسوی تاریخ     پیر, 30 جنوری 2017 م

پریس ریلیز

امریکہ یمن میں قتل و غارت کے لیے اپنی فوجیں اتار رہا ہے،

 جبکہ حریف نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کی مدد بھی کر رہے ہیں!!!

 

امریکی محکمہ دفاع نےبروز اتواریمن میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں اس کے فوجیوں میں سے ایک کے مرنے اور تین کے  زخمی ہونے کا اعلان کیا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی"نے  پینٹاگون کے حوالے سے مزید تفصیلات دیےبغیر یوں کہا کہ "مرکزی یمن کے صوبے البیضاء میں القاعدہ پر حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سروس ممبر ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں"۔

 

علی الصبح مقامی ذرائع نے "یمن مانیٹر"کو بتایا کہ القاعدہ کے ساتھ مشتبہ روابط والے قبائلی عسکریت پسندوں نے صوبہ البیضاء کے علاقے الرداع میں ایک امریکی طیارے کو مار گرایا ہے جب وہاں امریکی افواج اترنے کی تیاریاں کررہیں تھیں ۔ ذرائع کے مطابق "امریکی افواج کی جانب سے"ایئر لینڈنگ آپریشن" کرنے والوں نے درجنوں عورتوں اور بچوں کو ہلاک  اور زخمی کر دیا اور  ان میں تین قبائلی سردارعبدالرؤف الدحب،سلطان الدحب اور سیف الجوفی بھی شامل ہیں،جن پر واشنگٹن نے القاعدہ کے ساتھ منسلک ہونے کا الزام لگایا"۔

 

نیویارک ٹائمز نے کہا کہ البیضا میں القاعدہ کے ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ پہلا زمینی آپریشن تھا جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے دستخط کیے تھے۔ یمن میں القاعدہ کی قریبی سماجی میڈیا سائٹس پر اس کی طرف سے جاری ایک بیان میں البضاء کے شہر "یلکاء" میں فوجی لینڈنگ آپریشن کی تفصیلات بیان کی گئی ہے۔القاعدہ کے ایک نمائندےکی رپورٹ کے مطابق "ایک امریکی طیارے نے بروز اتوار علاقے کے ایک گاؤں کو نشانہ بنا کر درجنوں کو ہلاک کردیا جس میں بہت سی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں"۔نشریات کے مطابق امریکی طیارے رات 9 بجے سے اُڑ رہے تھے جبکہ آپریشن بروز اتوار رات 2 بجے شروع ہوا جب چار طیاروں  نے گاؤں کے تین گھروں کو نشانہ بناتے ہوئے 16 میزائل گرائے،جس کے ساتھ ہی امریکی فوجی اترے اور جھڑپیں شروع ہو گئیں جو کہ دو گھنٹوں تک جاری رہیں جس کے دوران متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ "امریکی فوجیوں نے بچوں اور عورتوں پر فائرنگ کر کے سنگین جرم اور ایک خوفناک قتلِ عام کیا ہے"۔بیان کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ"گاؤں سے کُل ہلاکتوں میں تقریبا تیس خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں"۔

 

یہ امریکی جرم یمن میں اس  لڑائی کے بہانے پیش آیا، جسے وہ دہشت گردی کہتا ہے  اور عین  اسی وقت سیاسی جماعتوں کی لڑائی اور جھڑپوں نے اینگلو-امریکی تنازعے کو سہولت فراہم کی جس نے ملک اور قوم کو تہس نہس کردیا۔اور شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہر پارٹی ملک کی آزادی کی دعویدار بن کر لڑ رہی ہے اور اس صحرا (یمن) میں امریکہ تکبر اور اپنی مبینہ خود مختاری کے ذریعے آ گیاہے۔دونوں جماعتیں اس جرم کے رونما ہونے سے قبل اس سے واقف تھیں، چاہے امریکہ اُن کی مدد کرے یا وہ اِس جرم میں امریکہ کی مدد کریں،چاہے وہ حورثی کے ساتھ ہوں جوامریکہ اور اس کے اتحادی علی صالح کی موت کے گُن گائیں، یا پھر حادی کے ساتھ ہوں جس کو اتحادی ریاستوں کی حمایت حاصل ہے۔یمن کی فضاؤں پر جن کا قبضہ ہے، ہر کوئی یمن اور اس کے عوام کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، ملک اور اس کی خودمختاری کا لحاظ کیے بغیر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہےاور اگر ان میں نیک لوگ تھے تو انہیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے روکا جاتا اورجو حقیقی دشمن ہےاُس کی طرف متوجہ کیا جاتا  جو ان کے اپنے گھر کے پچھواڑے میں انہیں فتح کر رہا ہے۔

 

اے ایمان اور عقل والےلوگو ! یہ وقت آپ کے ملک میں موجود ان دو متنازعہ جماعتوں کی حقیقت کو سمجھنے کا ہے اور ان حکمرانوں کی حقیقت جاننے کا موقع ہے جو آپ کے مسائل میں آپ کے حمایتی نظر آتے ہیں مگر ان کے اتحاد کا مقصد کافر استعماریوں کی خدمت کرنا ہے جن کی قیادت امریکہ کررہا ہے۔یہ امریکی مخالف نعروں کی حقیقت جاننے کا وقت ہے اور وہ صرف دھوکہ اور گمراہ کن نعرے ہیں۔ آپ کو اپنے جلال اور شان و شوکت کے لئے،آپ کی خود مختاری، آپس میں بغاوت کے خاتمے اور آپ کی صفوں کی وحدت کے لئے  حزب التحریر اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کریں، کیونکہ صرف یہی آپ کی حفاظت کرے گی اور اسی کی وجہ سے آپ اپنے ملک سے استعماری طاقتوں کے ہاتھ کاٹ دیں گے اوراُس دن اہل ایمان اللہ کی فتح کی خوشی منائیں گے۔

 

ولایہ یمن میں حزب التحریر کا میڈیاآفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
یمن
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 735417068
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک